Back to Languages

Urdu - Chapter 24 - An-Nur

Translation by Muhammad Tahir Ul Qadri — Permalink

Verse 1 — Surah An-Nur 24:1

(یہ) ایک (عظیم) سورت ہے جسے ہم نے اتارا ہے اور ہم نے اس (کے احکام) کو فرض کر دیا ہے اور ہم نے اس میں واضح آیتیں نازل فرمائی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

Verse 2 — Surah An-Nur 24:2

بدکار عورت اور بدکار مرد (اگر غیر شادی شدہ ہوں) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو (شرائطِ حد کے ساتھ جرمِ زنا کے ثابت ہو جانے پر) سو (سو) کوڑے مارو (جبکہ شادی شدہ مرد و عورت کی بدکاری پر سزا رجم ہے اور یہ سزائے موت ہے) اور تمہیں ان دونوں پر اللہ کے دین (کے حکم کے اجراء) میں ذرا ترس نہیں آنا چاہئے اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اور چاہئے کہ ان دونوں کی سزا (کے موقع) پر مسلمانوں کی (ایک اچھی خاصی) جماعت موجود ہو

Verse 3 — Surah An-Nur 24:3

بدکار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرک عورت کے (کسی پاکیزہ عورت سے) نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتا اور بدکار عورت سے (بھی) سوائے بدکار مرد یا مشرک کے کوئی (صالح شخص) نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتا، اور یہ (فعلِ زنا) مسلمانوں پر حرام کر دیا گیا ہے

Verse 4 — Surah An-Nur 24:4

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو تم انہیں (سزائے قذف کے طور پر) اسّی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ بدکردار ہیں

Verse 5 — Surah An-Nur 24:5

سوائے ان کے جنہوں نے اس (تہمت لگنے) کے بعد توبہ کر لی اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے (ان کا شمار فاسقوں میں نہیں ہوگا مگر اس سے حدِ قذف معاف نہیں ہوگی)

Verse 6 — Surah An-Nur 24:6

اور جو لوگ اپنی بیویوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں اور ان کے پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی بھی ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ (وہ خود) چار مرتبہ اللہ کی قَسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (الزام لگانے میں) سچا ہے

Verse 7 — Surah An-Nur 24:7

اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو

Verse 8 — Surah An-Nur 24:8

اور (اسی طرح) یہ بات اس (عورت) سے (بھی) سزا کو ٹال سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر (خود) گواہی دے کہ وہ (مرد اس تہمت کے لگانے میں) جھوٹا ہے

Verse 9 — Surah An-Nur 24:9

اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اس پر (یعنی مجھ پر) اللہ کا غضب ہو اگر یہ (مرد اس الزام لگانے میں) سچا ہو

Verse 10 — Surah An-Nur 24:10

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو تم ایسے حالات میں زیادہ پریشان ہوتے) اور بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا بڑی حکمت والا ہے

Verse 11 — Surah An-Nur 24:11

بیشک جن لوگوں نے (عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا پر) بہتان لگایا تھا (وہ بھی) تم ہی میں سے ایک جماعت تھی، تم اس (بہتان کے واقعہ) کو اپنے حق میں برا مت سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر (ہوگیا) ہے٭ ان میں سے ہر ایک کے لئے اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور ان میں سے جس نے اس (بہتان) میں سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لئے زبردست عذاب ہےo٭ (کیونکہ تمہیں اسی حوالے سے احکامِ شریعت مل گئے اور عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا گواہ خود اللہ بن گیا جس سے تمہیں ان کی شان کا پتہ چل گیا۔)

Verse 12 — Surah An-Nur 24:12

ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس (بہتان) کو سنا تھا تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں کے بارے میں نیک گمان کر لیتے اور (یہ) کہہ دیتے کہ یہ کھلا (جھوٹ پر مبنی) بہتان ہے

Verse 13 — Surah An-Nur 24:13

یہ (افترا پرداز لوگ) اس (طوفان) پر چار گواہ کیوں نہ لائے، پھر جب وہ گواہ نہیں لا سکے تو یہی لوگ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں

Verse 14 — Surah An-Nur 24:14

اور اگر تم پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس (تہمت کے) چرچے میں تم پڑ گئے ہو اس پر تمہیں زبردست عذاب پہنچتا

Verse 15 — Surah An-Nur 24:15

جب تم اس (بات) کو (ایک دوسرے سے سن کر) اپنی زبانوں پر لاتے رہے اور اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے رہے جس کا (خود) تمہیں کوئی علم ہی نہ تھا اور اس (چرچے) کو معمولی بات خیال کر رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے حضور بہت بڑی (جسارت ہو رہی) تھی

Verse 16 — Surah An-Nur 24:16

اور جب تم نے یہ (بہتان) سنا تھا تو تم نے (اسی وقت) یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمارے لئے یہ (جائز ہی) نہیں کہ ہم اسے زبان پر لے آئیں (بلکہ تم یہ کہتے کہ اے اللہ!) تو پاک ہے (اس بات سے کہ ایسی عورت کو اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب زوجہ بنا دے)، یہ بہت بڑا بہتان ہے

Verse 17 — Surah An-Nur 24:17

اللہ تم کو نصیحت فرماتا ہے کہ پھر کبھی بھی ایسی بات (عمر بھر) نہ کرنا اگر تم اہلِ ایمان ہو

Verse 18 — Surah An-Nur 24:18

اور اللہ تمہارے لئے آیتوں کو واضح طور پر بیان فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے

Verse 19 — Surah An-Nur 24:19

بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

Verse 20 — Surah An-Nur 24:20

اور اگر تم پر (اس رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ میں) اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو (تم بھی پہلی امتوں کی طرح تباہ کر دیئے جاتے) مگر اللہ بڑا شفیق بڑا رحم فرمانے والا ہے

Verse 21 — Surah An-Nur 24:21

اے ایمان والو! شیطان کے راستوں پر نہ چلو، اور جو شخص شیطان کے نقوشِ قدم پر چلتا ہے تو وہ یقیناً بے حیائی اور برے کاموں (کے فروغ) کا حکم دیتا ہے، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی کبھی (اس گناہِ تہمت کے داغ سے) پاک نہ ہو سکتا لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک فرما دیتا ہے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے

Verse 22 — Surah An-Nur 24:22

اور تم میں سے (دینی) بزرگی والے اور (دنیوی) کشائش والے (اب) اس بات کی قَسم نہ کھائیں کہ وہ (اس بہتان کے جرم میں شریک) رشتہ داروں اور محتاجوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (مالی امداد نہ) دیں گے انہیں چاہئے کہ (ان کا قصور) معاف کر دیں اور (ان کی غلطی سے) درگزر کریں، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے، اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے

Verse 23 — Surah An-Nur 24:23

بیشک جو لوگ ان پارسا مومن عورتوں پر جو (برائی کے تصور سے بھی) بے خبر اور ناآشنا ہیں (ایسی) تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت (دونوں جہانوں) میں ملعون ہیں اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے

Verse 24 — Surah An-Nur 24:24

جس دن (خود) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں انہی کے خلاف گواہی دیں گے کہ جو کچھ وہ کرتے رہے تھے

Verse 25 — Surah An-Nur 24:25

اس دن اللہ انہیں ان (کے اعمال) کی پوری پوری جزا جس کے وہ صحیح حق دار ہیں دے دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ (خود بھی) حق ہے (اور حق کو) ظاہر فرمانے والا (بھی) ہے

Verse 26 — Surah An-Nur 24:26

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پلید مرد پلید عورتوں کے لئے ہیں، اور (اسی طرح) پاک و طیب عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پاک و طیب مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں (سو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزگی و طہارت کو دیکھ کر خود سوچ لیتے کہ اللہ نے ان کے لئے زوجہ بھی کس قدر پاکیزہ و طیب بنائی ہوگی)، یہ (پاکیزہ لوگ) ان (تہمتوں) سے کلیتًا بری ہیں جو یہ (بدزبان) لوگ کہہ رہے ہیں، ان کے لئے (تو) بخشائش اور عزت و بزرگی والی عطا (مقدر ہو چکی) ہے (تم ان کی شان میں زبان درازی کر کے کیوں اپنا منہ کالا اور اپنی آخرت تباہ و برباد کرتے ہو)

Verse 27 — Surah An-Nur 24:27

اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کرو

Verse 28 — Surah An-Nur 24:28

پھر اگر تم ان (گھروں) میں کسی شخص کو موجود نہ پاؤ تو تم ان کے اندر مت جایا کرو یہاں تک کہ تمہیں (اس بات کی) اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو تم واپس پلٹ جایا کرو، یہ تمہارے حق میں بڑی پاکیزہ بات ہے، اور اللہ ان کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے

Verse 29 — Surah An-Nur 24:29

اس میں تم پر گناہ نہیں کہ تم ان مکانات (و عمارات) میں جو کسی کی مستقل رہائش گاہ نہیں ہیں (مثلاً ہوٹل، سرائے اور مسافر خانے وغیرہ میں بغیر اجازت کے) چلے جاؤ (کہ) ان میں تمہیں فائدہ اٹھانے کا حق (حاصل) ہے، اور اللہ ان (سب باتوں) کو جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو

Verse 30 — Surah An-Nur 24:30

آپ مومن مَردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ ان کے لئے بڑی پاکیزہ بات ہے۔ بیشک اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو یہ انجام دے رہے ہیں

Verse 31 — Surah An-Nur 24:31

اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ

Verse 32 — Surah An-Nur 24:32

اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو)، اگر وہ محتاج ہوں گے (تو) اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہے

Verse 33 — Surah An-Nur 24:33

اور ایسے لوگوں کو پاک دامنی اختیار کرنا چاہئے جو نکاح (کی استطاعت) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی فرما دے، اور تمہارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (کچھ مال کما کر دینے کی شرط پر آزاد) ہونا چاہیں تو انہیں مکاتب (مذکورہ شرط پر آزاد) کر دو اگر تم ان میں بھلائی جانتے ہو، اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن (یا حفاظت نکاح میں) رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہو جانے کے بعد (بھی) بڑا بخشنے والا مہربان ہے

Verse 34 — Surah An-Nur 24:34

اور بیشک ہم نے تمہاری طرف واضح اور روشن آیتیں نازل فرمائی ہیں اور کچھ ان لوگوں کی مثالیں (یعنی قصۂ عائشہ کی طرح قصۂ مریم اور قصۂ یوسف) جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور (یہ) پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے

Verse 35 — Surah An-Nur 24:35

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدی کی شکل میں دنیا میں روشن ہے) اُس طاق (نما سینۂ اَقدس) جیسی ہے جس میں چراغِ (نبوت روشن) ہے؛ (وہ) چراغ (قلبِ محمدی کے) فانوس میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس (نورِ الٰہی کے پَرتو سے اس قدر منور ہے) گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے (یہ چراغِ نبوت) جو زیتون کے مبارک درخت سے (یعنی عالم قدس کے بابرکت رابطہ وحی سے یا انبیاء و رُسل ہی کے مبارک شجرۂ نبوت سے) روشن ہوا ہے نہ (فقط) شرقی ہے اور نہ غربی (بلکہ اپنے فیضِ نور کی وسعت میں عالم گیر ہے)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل (خود ہی) چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے (وحیِ ربّانی اور معجزاتِ آسمانی کی) آگ نے چھوا بھی نہیں۔ (وہ) نور کے اوپر نور ہے (یعنی نورِ وجود پر نورِ نبوت گویا وہ ذات دوہرے نور کا پیکر ہے)۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے٭o٭ یہ حضرت عبد ﷲ بن عباس اور عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ تابعین میں سے کعب الاحبار، سعید بن جبیر، ابو العالیہ اور الضحاک بن مزاحم کا بیان کردہ معنی ہے؛ جسے امام عبد بن حمید، ابن جریر الطبری، ابن المنذر، ابن ابی حاتم الرازی، ابو منصور الماتریدی، الطبرانی، ابو اللیث السمرقندی، السلمی، ابو اسحاق الثعلبی، مکی بن ابی طالب المقری، البغوی، القاضی عیاض، ابن عطیہ، ابن الجوزی، فخر الدین الرازی، القرطبی، ابن حیان، ابن القیم، ابو حفص الحنبلی، السیوطی، القسطلانی، الآلوسی اور دیگر بہت سے مفسرین نے بیان کیا ہے

Verse 36 — Surah An-Nur 24:36

(اللہ کا یہ نور) ایسے گھروں (مساجد اور مراکز) میں (میسر آتا ہے) جن (کی قدر و منزلت) کے بلند کئے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کئے جانے کا حکم اللہ نے دیا ہے (یہ وہ گھر ہیں کہ اللہ والے) ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں

Verse 37 — Surah An-Nur 24:37

(اللہ کے اس نور کے حامل) وہی مردانِ (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیوی فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) الٹ پلٹ ہو جائیں گی

Verse 38 — Surah An-Nur 24:38

تاکہ اللہ انہیں ان (نیک) اعمال کا بہتر بدلہ دے جو انہوں نے کئے ہیں اور اپنے فضل سے انہیں اور (بھی) زیادہ (عطا) فرما دے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق (و عطا) سے نوازتا ہے

Verse 39 — Surah An-Nur 24:39

اور کافروں کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی مانند ہیں جس کو پیاسا پانی سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ (بھی) نہیں پاتا (اسی طرح اس نے آخرت میں) اللہ کو اپنے پاس پایا مگر اللہ نے اس کا پورا حساب (دنیا میں ہی) چکا دیا تھا، اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے

Verse 40 — Surah An-Nur 24:40

یا (کافروں کے اعمال) اس گہرے سمندر کی تاریکیوں کی مانند ہیں جسے موج نے ڈھانپا ہوا ہو (پھر) اس کے اوپر ایک اور موج ہو (اور) اس کے اوپر بادل ہوں (یہ تہ در تہ) تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر ہیں، جب (ایسے سمندر میں ڈوبنے والا کوئی شخص) اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے (کوئی بھی) دیکھ نہ سکے، اور جس کے لئے اللہ ہی نے نورِ (ہدایت) نہیں بنایا تو اس کے لئے (کہیں بھی) نور نہیں ہوتا

Verse 41 — Surah An-Nur 24:41

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ (سب) اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے (بھی فضاؤں میں) پر پھیلائے ہوئے (اسی کی تسبیح کرتے ہیں)، ہر ایک (اللہ کے حضور) اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جانتا ہے، اور اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو وہ انجام دیتے ہیں

Verse 42 — Surah An-Nur 24:42

اور سارے آسمانوں اور زمین کی حکمرانی اللہ ہی کی ہے، اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

Verse 43 — Surah An-Nur 24:43

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادل کو (پہلے) آہستہ آہستہ چلاتا ہے پھر اس (کے مختلف ٹکڑوں) کو آپس میں ملا دیتا ہے پھر اسے تہ بہ تہ بنا دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان خالی جگہوں سے بارش نکل کر برستی ہے، اور وہ اسی آسمان (یعنی فضا) میں برفانی پہاڑوں کی طرح (دکھائی دینے والے) بادلوں میں سے اولے برساتا ہے، پھر جس پر چاہتا ہے ان اولوں کو گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ان کو پھیر دیتا ہے (مزید یہ کہ انہی بادلوں سے بجلی بھی پیدا کرتا ہے)، یوں لگتا ہے کہ اس (بادل) کی بجلی کی چمک آنکھوں (کو خیرہ کر کے ان) کی بینائی اچک لے جائے گی

Verse 44 — Surah An-Nur 24:44

اور اللہ رات اور دن کو (ایک دوسرے کے اوپر) پلٹتا رہتا ہے، اور بیشک اس میں عقل و بصیرت والوں کے لئے (بڑی) رہنمائی ہے

Verse 45 — Surah An-Nur 24:45

اور اللہ نے ہر چلنے پھرنے والے (جاندار) کی پیدائش (کی کیمیائی ابتداء) پانی سے فرمائی، پھر ان میں سے بعض وہ ہوئے جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہوئے جو دو پاؤں پر چلتے ہیں، اور ان میں سے بعض وہ ہوئے جو چار (پیروں) پر چلتے ہیں، اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا رہتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے

Verse 46 — Surah An-Nur 24:46

یقیناً ہم نے واضح اور روشن بیان والی آیتیں نازل فرمائی ہیں، اور اللہ (ان کے ذریعے) جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دیتا ہے

Verse 47 — Surah An-Nur 24:47

اور وہ (لوگ) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں پھر اس (قول) کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اپنے اقرار سے) رُوگردانی کرتا ہے، اور یہ لوگ (حقیقت میں) مومن (ہی) نہیں ہیں

Verse 48 — Surah An-Nur 24:48

اور جب ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو اس وقت ان میں سے ایک گروہ (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آنے سے) گریزاں ہوتا ہے

Verse 49 — Surah An-Nur 24:49

اور اگر وہ حق والے ہوتے تو وہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مطیع ہو کر تیزی سے چلے آتے

Verse 50 — Surah An-Nur 24:50

کیا ان کے دلوں میں (منافقت کی) بیماری ہے یا وہ (شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) شک کرتے ہیں یا وہ اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر ظلم کریں گے، (نہیں) بلکہ وہی لوگ خود ظالم ہیں

Verse 51 — Surah An-Nur 24:51

ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہو گئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

Verse 52 — Surah An-Nur 24:52

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا اور اس کا تقوٰی اختیار کرتا ہے پس ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں

Verse 53 — Surah An-Nur 24:53

اور وہ لوگ اللہ کی بڑی بھاری (تاکیدی) قَسمیں کھاتے ہیں کہ اگر آپ انہیں حکم دیں تو وہ (جہاد کے لئے) ضرور نکلیں گے، آپ فرما دیں کہ تم قَسمیں مت کھاؤ (بلکہ) معروف طریقہ سے فرمانبرداری (درکار) ہے، بیشک اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو

Verse 54 — Surah An-Nur 24:54

فرما دیجئے: تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو، پھر اگر تم نے (اطاعت) سے رُوگردانی کی تو (جان لو) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ وہی کچھ ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے، اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (احکام کو) صریحاً پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے

Verse 55 — Surah An-Nur 24:55

اللہ نے ایسے لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے (جس کا ایفا اور تعمیل امت پر لازم ہے) جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ ضرور انہی کو زمین میں خلافت (یعنی امانتِ اقتدار کا حق) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو (حقِ) حکومت بخشا تھا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لئے ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے (غلبہ و اقتدار کے ذریعہ) مضبوط و مستحکم فرما دے گا اور وہ ضرور (اس تمکّن کے باعث) ان کے پچھلے خوف کو (جو ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی کمزوری کی وجہ سے تھا) ان کے لئے امن و حفاظت کی حالت سے بدل دے گا، وہ (بے خوف ہو کر) میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے (یعنی صرف میرے حکم اور نظام کے تابع رہیں گے)، اور جس نے اس کے بعد ناشکری (یعنی میرے احکام سے انحراف و انکار) کو اختیار کیا تو وہی لوگ فاسق (و نافرمان) ہوں گے

Verse 56 — Surah An-Nur 24:56

اور تم نماز (کے نظام) کو قائم رکھو اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کرتے رہو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (مکمل) اطاعت بجا لاؤ تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے (یعنی غلبہ و اقتدار، استحکام اور امن و حفاظت کی نعمتوں کو برقرار رکھا جائے)

Verse 57 — Surah An-Nur 24:57

اور یہ خیال ہر گز نہ کرنا کہ انکار و ناشکری کرنے والے لوگ زمین میں (اپنے ہلاک کئے جانے سے اللہ کو) عاجز کر دیں گے، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے

Verse 58 — Surah An-Nur 24:58

اے ایمان والو! چاہئے کہ تمہارے زیردست (غلام اور باندیاں) اور تمہارے ہی وہ بچے جو (ابھی) جوان نہیں ہوئے (تمہارے پاس آنے کے لئے) تین مواقع پر تم سے اجازت لیا کریں: (ایک) نمازِ فجر سے پہلے اور (دوسرے) دوپہر کے وقت جب تم (آرام کے لئے) کپڑے اتارتے ہو اور (تیسرے) نمازِ عشاء کے بعد (جب تم خواب گاہوں میں چلے جاتے ہو)، (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے کے ہیں، ان (اوقات) کے علاوہ نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر، (کیونکہ بقیہ اوقات میں وہ) تمہارے ہاں کثرت کے ساتھ ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں، اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں واضح فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے

Verse 59 — Surah An-Nur 24:59

اور جب تم میں سے بچے حدِ بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ (تمہارے پاس آنے کے لئے) اجازت لیا کریں جیسا کہ ان سے پہلے (دیگر بالغ افراد) اجازت لیتے رہتے ہیں، اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام خُوب واضح فرماتا ہے، اور اللہ خوب علم والا اور حکمت والا ہے

Verse 60 — Surah An-Nur 24:60

اور وہ بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں (اب) نکاح کی خواہش نہیں رہی ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے (اوپر سے ڈھانپنے والے اضافی) کپڑے اتار لیں بشرطیکہ وہ (بھی) اپنی آرائش کو ظاہر کرنے والی نہ بنیں، اور اگر وہ (مزید) پرہیزگاری اختیار کریں (یعنی زائد اوڑھنے والے کپڑے بھی نہ اتاریں) تو ان کے لئے بہتر ہے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے

Verse 61 — Surah An-Nur 24:61

اندھے پر کوئی رکاوٹ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور نہ خود تمہارے لئے (کوئی مضائقہ ہے) کہ تم اپنے گھروں سے (کھانا) کھا لو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں (یعنی جن میں ان کے مالکوں کی طرف سے تمہیں ہر قسم کے تصرّف کی اجازت ہے) یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (کھانا کھا لینے میں مضائقہ نہیں)، تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سب کے سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ، پھر جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے (گھر والوں) پر سلام کہا کرو (یہ) اللہ کی طرف سے بابرکت پاکیزہ دعا ہے، اس طرح اللہ اپنی آیتوں کو تمہارے لئے واضح فرماتا ہے تاکہ تم (احکامِ شریعت اور آدابِ زندگی کو) سمجھ سکو

Verse 62 — Surah An-Nur 24:62

ایمان والے تو وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہیں اور جب وہ آپ کے ساتھ کسی ایسے (اجتماعی) کام پر حاضر ہوں جو (لوگوں کو) یکجا کرنے والا ہو تو وہاں سے چلے نہ جائیں (یعنی امت میں اجتماعیت اور وحدت پیدا کرنے کے عمل میں دل جمعی سے شریک ہوں) جب تک کہ وہ (کسی خاص عذر کے باعث) آپ سے اجازت نہ لے لیں، (اے رسولِ معظّم!) بیشک جو لوگ (آپ ہی کو حاکم اور مَرجَع سمجھ کر) آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں وہی لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھنے والے ہیں، پھر جب وہ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے (جانے کی) اجازت چاہیں تو آپ (حاکم و مختار ہیں) ان میں سے جسے چاہیں اجازت مرحمت فرما دیں اور ان کے لئے (اپنی مجلس سے اجازت لے کر جانے پر بھی) اللہ سے بخشش مانگیں (کہ کہیں اتنی بات پر بھی گرفت نہ ہو جائے)، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

Verse 63 — Surah An-Nur 24:63

(اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں تو خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے)، بیشک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ ڈریں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آپہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گا

Verse 64 — Surah An-Nur 24:64

خبردار! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے، وہ یقیناً جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ایمان پر ہو یا منافقت پر)، اور جس دن لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے