واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کر رکھی تھی، اور اس نے وہاں کے باشندوں کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کردیا تھا جن میں سے ایک گروہ کو اس نے اتنا دبا کر رکھا ہوا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا۔ اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو فساد پھیلایا کرتے ہیں۔
اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کو الہام کیا کہ : تم اس (بچے) کو دودھ پلاؤ، پھر جب تمہیں اس کے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا، اور ڈرنا نہیں، اور نہ صدمہ کرنا، یقین رکھو ہم اسے واپس تمہارے پاس پہنچا کر رہیں گے، اور اس کو پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر بنائیں گے۔
اس طرح فرعون کے لوگوں نے اس بچے (یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام)) کو اٹھا لیا تاکہ آخر کار وہ ان کے لیے دشمن اور غم کا ذریعہ بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور ان کے لشکر بڑے خطار کار تھے۔
اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا کہ : یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اور (یہ فیصلہ کرتے وقت) انہیں انجام کا پتہ نہیں تھا۔
ادھر موسیٰ کی والدہ کا دل بےقرار تھا۔ قریب تھا کہ وہ یہ سارا راز کھول دیتیں، اگر ہم نے ان کے دل کو سنبھالا نہ ہوتا، تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) یقین کیے رہیں۔
اور ہم نے موسیٰ پر پہلے ہی سے یہ بندش لگا دی تھی کہ وہ دودھ پلانے والیاں انہیں دودھ نہ پلاسکیں۔ اس لیے ان کی بہن نے کہا : کیا میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ تمہارے لیے اس بچے کی پرورش کریں، اور اس کے خیر خواہ رہیں ؟
اس طرح ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی رہے، اور وہ غمگین نہ ہوں، اور تاکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
اور (ایک دن) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جب اس کے باشندے غفلت میں تھے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں دو آمی لڑ رہے ہیں، ایک تو ان کی اپنی برادری کا تھا، اور دوسرا ان کی دشمن قوم کا۔ اب جو شخص ان کی برادری کا تھا، اس نے انہیں ان کی دشمن قوم کے آدمی کے مقابلے میں مدد کے لیے پکارا، اس پر موسیٰ نے اس کو ایک مکا مارا جس نے اس کا کام تمام کردیا۔ (پھر) انہوں نے (پچھتا کر) کہا کہ : یہ تو کوئی شیطان کی کاروائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک کھلا دشمن ہے جو غلط راستے پر ڈال دیتا ہے۔
کہنے لگے : میرے پروردگار ! میں نے اپنی جان پر ظلم کرلیا، آپ مجھے معاف فرمادیجیے۔ چنانچہ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ یقینا وہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
پھر صبح کے وقت وہ شہر میں ڈرتے ڈرتے حالات کا جائزہ لے رہے تھے، اتنے میں دیکھا کہ جس شخص نے کل ان سے مدد مانگی تھی وہ پھر انہیں فریاد کے لیے پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ : معلوم ہوا کہ تم تو کھلم کھلا شریر آدمی ہو۔
پھر جب انہوں نے اس شخص کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس (اسرائیلی) نے کہا : موسیٰ کیا تم مجھے بھی اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا ؟ تمہارا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم زمین میں اپنی زبردستی جماؤ، اور تم مصلح بننا نہیں چاہتے۔
اور (اس کے بعد یہ ہوا کہ) شہر کے بالکل دور دراز علاقے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا کہ : موسیٰ ! سردار لوگ تمہارے بارے میں مشورے کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کر ڈالیں، اس لیے تم یہاں سے نکل جاؤ، یقین رکھو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔
اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ اس پر ایسے لوگوں کا ایک مجمع ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، اور دیکھا کہ ان سے پہلے دو عورتیں ہیں جو اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے کہا : تم کیا چاہتی ہو ؟ ان دونوں نے کہا : ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک سارے چرواہے پانی پلا کر نکل نہیں جاتے، اور ہمارے والد بہت بوڑھے آدمی ہیں۔
اس پر موسیٰ نے ان کی خاطر ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر مڑ کر ایک سائے کی جگہ چلے گئے، اور کہنے لگے : میرے پروردگار ! جو کوئی بہتری تو مجھ پر اوپر سے نازل کردے، میں اس کا محتاج ہوں۔
تھوڑی دیر بعد ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کے پاس شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی، کہنے لگی : میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں، تاکہ آپ کو اس بات کا انعام دیں کہ آپ نے ہماری خاطر جانوروں کو پانی پلایا ہے، چنانچہ جب وہ عورتوں کے والد کے پاس پہنچے اور ان کو ساری سرگزشت سنائی، تو انہوں نے کہا : کوئی اندیشہ نہ کرو، تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو۔
ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا : ابا جان ! آپ ان کو اجرت پر کوئی کام دے دیجیے۔ آپ کسی سے اجرت پر کام لیں تو اس کے لیے بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور بھی ہو، امانت دار بھی۔
ان کے باپ نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک سے تمہارا نکاح کردوں۔ بشرطیکہ تم آٹھ سال تک اجرت پر میرے پاس کام کرو، پھر اگر تم دس سال پورے کردو تو یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہوگا، اور میرا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ تم پر مشقت ڈالوں، انشاء اللہ تم مجھے ان لوگوں میں سے پاؤ گے جو بھلائی کا معاملہ کرتے ہیں۔
موسیٰ نے کہا : یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کردوں، تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی، اور جو بات ہم کر رہے ہیں، اللہ اس کا رکھوالا ہے۔
پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی، اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے تو انہوں نے کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : ٹھہرو ! میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں، یا آگ کا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم گرمائی حاصل کرسکو۔
چنانچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو دائیں وادی کے کنارے پر جو برکت والے علاقے میں واقع تھی، ایک درخت سے آواز آئی کہ : اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں، تمام جہانوں کا پروردگار
اور یہ کہ : اپنی لاٹھی نیچے ڈال دو ، پھر ہوا یہ کہ جب انہوں نے اس لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اس طرح حرکت کر رہی ہے جیسے وہ سانپ ہو، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، اور مڑ کر بھی نہ دیکھا (ان سے کہا گیا) موسیٰ ! سامنے آؤ، اور ڈرو نہیں، تم بالکل محفوظ ہو۔
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا، اور ڈر دور کرنے کے لیے اپنا بازو اپنے جسم سے لپٹا لینا اب یہ دو زبردست دلیلیں ہیں جو تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجی جارہی ہیں۔ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔
اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے۔ اس لیے ان کو بھی میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دیجیے کہ وہ میری تائید کریں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔
ارشاد ہوا : ہم تمہارے بھائی کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے دیتے ہیں، اور تم دونوں کو ایسا دبدبہ عطا کردیتے ہیں کہ ان کو ہماری نشانیوں کی برکت سے تم پر دسترس حاصل نہیں ہوگی، تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہو گے۔
چنانچہ جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی ہوئی نشانیاں لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا : یہ کچھ نہیں، بس بناوٹی جادو ہے، اور ہم نے یہ بات اپنے پچھلے باپ دادوں میں نہیں سنی۔
اور موسیٰ نے کہا : میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور آخر کار بہتر ٹھکانا کس کے ہاتھ آئے گا، یہ یقینی بات ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔
اور فرعون بولا : اے دربار والو ! میں تو اپنے سوا تمہارے کسی اور خدا سے واقف نہیں ہوں۔ ہامان ! تم ایسا کرو کہ میرے لیے گارے کو آگ دے کر پکواؤ، اور میرے لیے ایک اونچی عمارت بناؤ، تاکہ میں اس پر سے موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں، اور میں تو پورے یقین کے ساتھ یہ سمجھا ہوں کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔
ہم نے پچھلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو ایسی کتاب دی تھی جو لوگوں کے لیے بصیرت کی باتوں پر مشتمل اور سراپا ہدایت و رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
اور (اے پیغمبر) تم اس وقت (کوہ طور کی) مغربی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ کو احکام سپرد کیے تھے اور نہ تم ان لوگوں میں سے تھے جو اس کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔
بلکہ ان کے بعد ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں، جن پر طویل زمانہ گزر گیا۔ اور تم مدین کے بسنے والوں کے درمیان بھی مقیم نہیں تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہو، بلکہ (تمہیں) رسول بنانے والے ہم ہیں۔
اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے موجود تھے جب ہم نے (موسیٰ کو) پکارا تھا، بلکہ یہ تمہارے رب کی رحمت ہے (کہ تمہیں وحی کے ذریعے یہ باتیں بتائی جارہی ہیں) تاکہ تم اس قوم کو خبردار کرو جس کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، شاید وہ نصیحت قبول کرلیں۔
اور تاکہ جب ان لوگوں پر ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی مصیبت آئی تو وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ : ہمارے پروردگار ! آپ نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم آپ کی آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں بھی شامل ہوجاتے ؟
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو کہنے لگے کہ : اس پیغمبر کو اس جیسی چیز کیوں نہیں دی گئی جیسی موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی ؟ حالانکہ جو چیز موسیٰ کو دی گئی تھی کیا انہوں نے پہلے ہی اس کا انکار نہیں کردیا تھا ؟ انہوں نے کہا تھا کہ : یہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں، اور ہم ان میں سے ہر ایک کے منکر ہیں۔
پھر اگر یہ تمہاری فرمائش پوری نہ کریں، تو سمجھ لو کہ درحقیقت یہ لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں، اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہش کے پیچھے چلے ؟ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
اور جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ : ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہ برحق کلام ہے جو ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ ہم تو اس سے پہلے بھی اسے مانتے تھے۔
ایسے لوگوں کو ان کا ثواب دہرا دیا جائے گا، کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا اور وہ نیکی سے برائی کا دفعیہ کرتے ہیں، اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں۔
اور جب وہ کوئی بےہودہ بات سنتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں، اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ ہم تمہیں سلام کرتے ہیں، ہم نادان لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔
(اے پیغمبر) حقیقت یہ ہے کہ تم جس کو خود چاہو ہدایت تک نہیں پہنچا سکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے، اور ہدایت قبول کرنے والوں کو وہی خوب جانتا ہے۔
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں گے تو ہمیں اپنی زمین سے کوئی اچک کرلے جائے گا۔ بھلا کیا ہم نے ان کو اس حرم میں جگہ نہیں دے رکھی جو اتنا پر امن ہے کہ ہر قسم کے پھل اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، جو خاص ہماری طرف سے دیا ہوا رزق ہے ؟ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
اور کتنی ہی بستیاں وہ ہیں جو اپنی معیشت پر اتراتی تھیں ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا، اب وہ ان کی رہائش گا ہیں تمہارے سامنے ہیں جو ان کے بعد تھوڑے عرصے کو چھوڑ کر کبھی آباد ہی نہ ہوسکیں، اور ہم ہی تھے جو ان کے وارث بنے۔
اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ وہ بستیاں یونہی ہلاک کر ڈالے جب تک اس نے ان بستیوں کے مرکزی مقام پر کوئی رسول نہ بھیجا ہو، جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے، اور ہم بستیوں کو اس وقت تک ہلاک کرنے والے نہیں ہیں جب تک ان کے باشندے ظالم نہ بن جائیں۔
اور تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی پونجی اور اس کی سجاوٹ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟
بھلا بتاؤ کہ جس شخص سے ہم نے اچھا سا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ اس وعدے کو پاکر رہے گا، کیا وہ اس جیسا ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کی پونجی کے کچھ مزے دے دیے ہیں، پھر وہ ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو قیامت کے دن دھر لیے جائیں گے ؟
جن کے خلاف (اللہ کی) بات پوری ہوچکی ہوگی، وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہ لوگ جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے، ہم آپ کے سامنے ان سے دست بردار ہوتے ہیں، یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔
اور (ان کافروں سے) کہا جائے گا کہ : پکارو ان کو جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا تھا۔ چنانچہ وہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہیں دیں گے، اور یہ عذاب آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ایسے ہوتے کہ ہدایت کو قبول کرلیتے۔
اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اللہ ان کے شرک سے پاک ہے اور بہت بالا و برتر ہے۔
اللہ وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تعریف اسی کی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور حکم اسی کا چلتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب واپس بھیجے جاؤ گے۔
(اے پیغمبر ! ان سے) کہو : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پر رات کو ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک مسلط رکھے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے ؟ بھلا کیا تم سنتے نہیں ہو ؟
کہو : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پر دن کو ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک مسلط کردے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں وہ رات لاکر دیدے جس میں تم سکون حاصل کرسکو ؟ بھلا کیا تمہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا ؟
یہ تو اسی نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات بھی بنائی ہے اور دن بھی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس میں اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا نکال لائیں گے، پھر کہیں گے کہ : لاؤ اپنی دلیل ! اس وقت ان کو پتہ چل جائے گا کہ سچی بات اللہ ہی کی تھی اور وہ ساری باتیں جو انہوں نے گھڑ رکھی تھیں، سب گم ہو کر رہ جائیں گی۔
قارون موسیٰ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر اس نے انہی پر زیادتی کی ۔ اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی چابیاں طاقتور لوگوں کی ایک جماعت سے بھی مشکل سے اٹھتی تھیں۔ ایک وقت تھا جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ : اتراؤ نہیں، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو۔ اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ اور جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے تم بھی (دوسروں پر) احسان کرو۔ اور زمین میں فساد مچانے کی کوشش نہ کرو۔ یقین جانو اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
کہنے لگا : یہ سب کچھ تو مجھے خود اپنے علم کی وجہ سے ملا ہے۔ بھلا کیا اسے اتنا بھی علم نہیں تھا کہ اللہ نے اس سے پہلی نسلوں کے ایسے ایسے لوگوں کو ہلاک کر ڈالا تھا جو طاقت میں بھی اس سے زیادہ مضبوط تھے اور جن کی جمعیت بھی زیادہ تھی۔ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا بھی نہیں جاتا۔
پھر (ایک دن) وہ اپنی قوم کے سامنے آن بان کے ساتھ نکلا۔ جو لوگ دنیوی زندگی کے طلب گار تھے، وہ کہنے لگے : اے کاش ! ہمارے پاس بھی وہ چیزیں ہوتیں جو قارون کو عطا کی گئی ہیں۔ یقینا وہ بڑے نصیبوں والا ہے۔
اور جن لوگوں کو (اللہ کی طرف سے) علم عطا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے (کہ تم ایسا کہہ رہے ہو) اللہ کا دیا ہوا ثواب اس شخص کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور وہ انہی کو ملتا ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔
پھر ہوا یہ کہ ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر اسے کوئی ایسا گروہ میسر نہ آیا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود اپنا بچاؤ کرسکا۔
اور کل جو لوگ اس جیسا ہونے کی تمنا کر رہے تھے، کہنے لگے : اوہو ! پتہ چل گیا کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت کردیتا ہے، اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ اوہو ! پتہ چلا گیا کہ کافر لوگ فلاح نہیں پاتے۔
جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس سے بہتر چیز ملے گی، اور جو کوئی بدی لے کر آئے گا تو جنہوں نے برے کام کیے ہیں، ان کو کسی اور چیز کی نہیں، ان کے کیے ہوئے کاموں ہی کی سزا دی جائے گی۔
(اے پیغمبر) جس ذات نے تم پر اس قرآن کی ذمہ داری ڈالی ہے، وہ تمہیں دوبارہ اس جگہ پر لاکر رہے گا جو (تمہارے لیے) انسیت کی جگہ ہے کہہ دو : میرا رب اس سے بھی خوب واقف ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے، اور اس سے بھی جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
اور (اے پیغمبر) تمہیں پہلے سے یہ امید نہیں تھی کہ تم پر یہ کتاب نازل کی جائے گی، لیکن یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے، لہذا کافروں کے ہرگز مددگار نہ بننا۔
اور جب اللہ کی آیتیں تم پر نازل کردی گئی ہیں تو اس کے بعد یہ لوگ تمہیں ہرگز ان (پر عمل کرنے) سے روکنے نہ پائیں۔ اور تم اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے رہو، اور ہرگز ان مشرکین میں شامل نہ ہونا۔
اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اس ذات کے، حکومت اسی کی ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔