Back to Languages

Urdu - Chapter 30 - Ar-Rum

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Ar-Rum 30:1

Verse 2 — Surah Ar-Rum 30:2

رومی لوگ مغلوب ہوگئے ہیں

Verse 3 — Surah Ar-Rum 30:3

قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔

Verse 4 — Surah Ar-Rum 30:4

چند ہی سالوں میں ! سارا اختیار اللہ ہی کا ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے اللہ کی دی ہوئی فتح سے خوش ہوں گے،

Verse 5 — Surah Ar-Rum 30:5

وہ جس کو چاہتا ہے، فتح دیتا ہے اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

Verse 6 — Surah Ar-Rum 30:6

یہ اللہ کا کیا ہوا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

Verse 7 — Surah Ar-Rum 30:7

وہ دنیوی زندگی کے صرف ظاہری رخ کو جانتے ہیں، اور آخرت کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس سے بالکل غافل ہیں۔

Verse 8 — Surah Ar-Rum 30:8

بھلا کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان پائی جانے والی چیزوں کو بغیر کسی برحق مقصد کے اور کوئی میعاد مقرر کیے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور بہت سے لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار سے جا ملنے کے منکر ہیں۔

Verse 9 — Surah Ar-Rum 30:9

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں، تاکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور انہوں نے زمین کو بھی جوتا تھا، اور جتنا ان لوگوں نے اسے آباد کیا ہے، اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا، اور ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، چنانچہ اللہ تو ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

Verse 10 — Surah Ar-Rum 30:10

پھر جن لوگوں نے برائی کی تھی ان کا انجام بھی برا ہی ہوا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا، اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

Verse 11 — Surah Ar-Rum 30:11

اللہ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، اور وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ پھر تم سب اس کے پاس واپس بلا لیے جاؤ گے۔

Verse 12 — Surah Ar-Rum 30:12

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز مجرم لوگ ناامید ہوجائیں گے۔

Verse 13 — Surah Ar-Rum 30:13

اور انہوں نے جن کو اللہ کا شریک مان رکھا تھا، ان میں سے کوئی ان کا سفارشی نہیں ہوگا، اور خود یہ لوگ اپنے مانے ہوئے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔

Verse 14 — Surah Ar-Rum 30:14

اور جس دن قیامت برپا ہوگی، اس روز لوگ مختلف قسموں میں بٹ جائیں گے۔

Verse 15 — Surah Ar-Rum 30:15

چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نیک عمل کیے تھے، ان کو تو جنت میں ایسی خوشیاں دی جائیں گی جو ان کے چہروں سے پھوٹی پڑ رہی ہوں گی۔

Verse 16 — Surah Ar-Rum 30:16

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، تو ایسے لوگوں کو عذاب میں دھر لیا جائے گا۔

Verse 17 — Surah Ar-Rum 30:17

لہذا اللہ کی تسبیح کرو اس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے۔

Verse 18 — Surah Ar-Rum 30:18

اور اسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اس کی تسبیح کرو) اور اس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔

Verse 19 — Surah Ar-Rum 30:19

وہ جاندار کو بےجان سے نکال لاتا ہے، اور بےجان کو جاندار سے نکال لیتا ہے۔ اور وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اور اسی طرح تم کو (قبروں سے) نکال لیا جائے گا۔

Verse 20 — Surah Ar-Rum 30:20

اور اس کی (قدرت کی) ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تم دیکھتے ہی دیکھتے انسان بن کر (زمین میں) پھیلے پڑے ہو۔

Verse 21 — Surah Ar-Rum 30:21

اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

Verse 22 — Surah Ar-Rum 30:22

اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی ہے۔ یقینا اس میں دانش مندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

Verse 23 — Surah Ar-Rum 30:23

اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ تمہارا رات اور دن کے وقت سونا اور اللہ کا فضل تلاش کرنا ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو بات سنتے ہوں۔

Verse 24 — Surah Ar-Rum 30:24

اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی لگتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے، جس کے ذریعے وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

Verse 25 — Surah Ar-Rum 30:25

اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ ایک پکار دے کر تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم فورا نکل پڑو گے۔

Verse 26 — Surah Ar-Rum 30:26

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔

Verse 27 — Surah Ar-Rum 30:27

اور وہی ہے جو مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ کام اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اور اسی کی سب سے اونچی شان ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جو اقتدار والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔

Verse 28 — Surah Ar-Rum 30:28

وہ تمہیں خود تمہارے اندر سے ایک مثال دیتا ہے۔ ہم نے جو رزق تمہیں دیا ہے، کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا شریک ہے کہ اس رزق میں تمہارا درجہ ان کے برابر ہو (اور) تم ان غلاموں سے ویسے ہی ڈرتے ہو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ ہم اسی طرح دلائل ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیں۔

Verse 29 — Surah Ar-Rum 30:29

لیکن ظالم لوگ کسی علم کے بغیر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو۔ اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

Verse 30 — Surah Ar-Rum 30:30

لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ یہی بالکل سیدھا راستہ ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

Verse 31 — Surah Ar-Rum 30:31

(فطرت کی پیروی) اس طرح (کرو) کہ تم نے اسی (اللہ) سے لو لگا رکھی ہو اور اس سے ڈرتے رہو، اور نماز قائم کرو اور ان لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

Verse 32 — Surah Ar-Rum 30:32

وہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ اپنے اپنے طریقے پر مگن ہے۔

Verse 33 — Surah Ar-Rum 30:33

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار سے لو لگا کر اسی کو پکارتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے انہیں کسی رحمت کا ذائقہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ یکایک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔

Verse 34 — Surah Ar-Rum 30:34

تاکہ ہم نے انہیں جو کچھ دیا تھا اس کی ناشکری کریں۔ اچھا ! کچھ مزے اڑا لو، پھر وہ وقت دور نہیں جب تمہیں سب پتہ چل جائے گا۔

Verse 35 — Surah Ar-Rum 30:35

بھلا کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو اس شرک کا ارتکاب کرنے کو کہتی ہو جو یہ اللہ کے ساتھ کرتے رہے ہیں ؟

Verse 36 — Surah Ar-Rum 30:36

اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتے ہیں، اور اگر انہیں خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچ جائے تو ذرا سی دیر میں وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔

Verse 37 — Surah Ar-Rum 30:37

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہے) تنگ کردیتا ہے۔ اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لائیں۔

Verse 38 — Surah Ar-Rum 30:38

لہذا تم رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی جو لوگ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ بہتر ہے، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

Verse 39 — Surah Ar-Rum 30:39

اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔ اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔

Verse 40 — Surah Ar-Rum 30:40

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر اس نے تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا ہوا ہے، کیا ان میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی کام کرتا ہو ؟ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر اس شرک سے جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے ہیں۔

Verse 41 — Surah Ar-Rum 30:41

لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا۔ تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔

Verse 42 — Surah Ar-Rum 30:42

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جو لوگ پہلے گزرے ہیں، ان کا کیسا انجام ہوا۔ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔

Verse 43 — Surah Ar-Rum 30:43

لہذا تم اپنا رخ صحیح دین کی طرف قائم رکھو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کا اللہ کی طرف سے کوئی امکان نہیں ہے۔ اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔

Verse 44 — Surah Ar-Rum 30:44

جس نے کفر کیا ہے اس کا کفر اسی پر پڑے گا، اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے، وہ اپنے لیے ہی راستہ بنا رہے ہیں۔

Verse 45 — Surah Ar-Rum 30:45

نتیجہ یہ کہ اللہ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزاء دے گا جو ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں۔ یقینا اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

Verse 46 — Surah Ar-Rum 30:46

اور اس (اللہ کی قدرت) کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو (بارش کی) خوشخبری لے کر آتی ہیں، اور اس لیے بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا کچھ مزہ چکھائے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے پانی میں چلیں، اور تم اس کا فضل تلاش کرو، اور شکر ادا کرو۔

Verse 47 — Surah Ar-Rum 30:47

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے، چنانچہ وہ ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آئے۔ پھر جنہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا تھا، ہم نے ان سے انتقام لیا، اور ہم نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ ایمان والوں کی مدد کریں۔

Verse 48 — Surah Ar-Rum 30:48

اللہ ہی وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے، چنانچہ وہ بادل کو اٹھاتی ہیں، پھر وہ اس (بادل) کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے، اور اسے کئی تہوں (والی گھٹا) میں تبدیل کردیتا ہے۔ تب تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش برس رہی ہے۔ چنانچہ جب وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے وہ بارش پہنچاتا ہے تو وہ اچانک خوشی منانے لگتے ہیں۔

Verse 49 — Surah Ar-Rum 30:49

حالانکہ اس سے پہلے جب تک ان پر بارش نہیں برسائی گئی تھی وہ ناامید ہورہے تھے۔

Verse 50 — Surah Ar-Rum 30:50

اب ذرا اللہ کی رحمت کے اثرات دیکھو کہ وہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد کس طرح زندگی بخشتا ہے ! حقیقت یہ ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

Verse 51 — Surah Ar-Rum 30:51

اور اگر ہم (نقصان دہ) ہوا چلا دیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے کھیت کو پیلا پڑا ہوا دیکھیں تو اس کے بعد یہ ناشکری کرنے لگیں۔

Verse 52 — Surah Ar-Rum 30:52

غرض (اے پیغمبر) تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جب وہ پیٹھ پھیر کر جارہے ہوں۔

Verse 53 — Surah Ar-Rum 30:53

اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راستے پر ڈال سکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں، پھر فرمانبردار بن جائیں۔

Verse 54 — Surah Ar-Rum 30:54

اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کمزوری سے کی، پھر کمزوری کے بعد طاقت عطا فرمائی، پھر طاقت کے بعد (دوبارہ) کمزوری اور بڑھاپا طاری کردیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، قدرت بھی کامل۔

Verse 55 — Surah Ar-Rum 30:55

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن مجرم لوگ قسم کھا لیں گے کہ وہ (برزخ میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ اسی طرح (دنیا میں بھی) وہ اوندھے چلا کرتے تھے۔

Verse 56 — Surah Ar-Rum 30:56

جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا کیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ : تم اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق حشر کے دن تک (برزخ میں) پڑے رہے ہو۔ اب یہ وہی حشر کا دن ہے، لیکن تم لوگ یقین نہیں کرتے تھے۔

Verse 57 — Surah Ar-Rum 30:57

چنانچہ جن لوگوں نے ظلم کی راہ اپنائی تھی، اس دن ان کی معذرت انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اور نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ اللہ کی ناراضی دور کرو۔

Verse 58 — Surah Ar-Rum 30:58

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کو سمجھانے) کی خاطر ہر قسم کی باتیں بیان کی ہیں۔ اور (اے پیغمبر) ان کا حال یہ ہے کہ تم ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آؤ، یہ کافر لوگ پھر بھی یہی کہیں گے کہ تم کچھ بھی نہیں، بالکل غلط کار ہو۔

Verse 59 — Surah Ar-Rum 30:59

اللہ اسی طرح ان لوگوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتا ہے جو سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

Verse 60 — Surah Ar-Rum 30:60

لہذا (اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، یقین جانو اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ یقین نہیں کرتے ان کی وجہ سے تم ڈھیلے پڑجاؤ۔