بھلا کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان پائی جانے والی چیزوں کو بغیر کسی برحق مقصد کے اور کوئی میعاد مقرر کیے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور بہت سے لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار سے جا ملنے کے منکر ہیں۔
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں، تاکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور انہوں نے زمین کو بھی جوتا تھا، اور جتنا ان لوگوں نے اسے آباد کیا ہے، اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا، اور ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، چنانچہ اللہ تو ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔
وہ جاندار کو بےجان سے نکال لاتا ہے، اور بےجان کو جاندار سے نکال لیتا ہے۔ اور وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اور اسی طرح تم کو (قبروں سے) نکال لیا جائے گا۔
اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی لگتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے، جس کے ذریعے وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
اور وہی ہے جو مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ کام اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اور اسی کی سب سے اونچی شان ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جو اقتدار والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔
وہ تمہیں خود تمہارے اندر سے ایک مثال دیتا ہے۔ ہم نے جو رزق تمہیں دیا ہے، کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا شریک ہے کہ اس رزق میں تمہارا درجہ ان کے برابر ہو (اور) تم ان غلاموں سے ویسے ہی ڈرتے ہو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ ہم اسی طرح دلائل ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیں۔
لیکن ظالم لوگ کسی علم کے بغیر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو۔ اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ یہی بالکل سیدھا راستہ ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
(فطرت کی پیروی) اس طرح (کرو) کہ تم نے اسی (اللہ) سے لو لگا رکھی ہو اور اس سے ڈرتے رہو، اور نماز قائم کرو اور ان لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار سے لو لگا کر اسی کو پکارتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے انہیں کسی رحمت کا ذائقہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ یکایک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتے ہیں، اور اگر انہیں خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچ جائے تو ذرا سی دیر میں وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔
کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہے) تنگ کردیتا ہے۔ اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لائیں۔
اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔ اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر اس نے تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا ہوا ہے، کیا ان میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی کام کرتا ہو ؟ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر اس شرک سے جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے ہیں۔
لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا۔ تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔
اور اس (اللہ کی قدرت) کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو (بارش کی) خوشخبری لے کر آتی ہیں، اور اس لیے بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا کچھ مزہ چکھائے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے پانی میں چلیں، اور تم اس کا فضل تلاش کرو، اور شکر ادا کرو۔
اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے، چنانچہ وہ ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آئے۔ پھر جنہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا تھا، ہم نے ان سے انتقام لیا، اور ہم نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ ایمان والوں کی مدد کریں۔
اللہ ہی وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے، چنانچہ وہ بادل کو اٹھاتی ہیں، پھر وہ اس (بادل) کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے، اور اسے کئی تہوں (والی گھٹا) میں تبدیل کردیتا ہے۔ تب تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش برس رہی ہے۔ چنانچہ جب وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے وہ بارش پہنچاتا ہے تو وہ اچانک خوشی منانے لگتے ہیں۔
اب ذرا اللہ کی رحمت کے اثرات دیکھو کہ وہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد کس طرح زندگی بخشتا ہے ! حقیقت یہ ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راستے پر ڈال سکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں، پھر فرمانبردار بن جائیں۔
اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کمزوری سے کی، پھر کمزوری کے بعد طاقت عطا فرمائی، پھر طاقت کے بعد (دوبارہ) کمزوری اور بڑھاپا طاری کردیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، قدرت بھی کامل۔
جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا کیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ : تم اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق حشر کے دن تک (برزخ میں) پڑے رہے ہو۔ اب یہ وہی حشر کا دن ہے، لیکن تم لوگ یقین نہیں کرتے تھے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کو سمجھانے) کی خاطر ہر قسم کی باتیں بیان کی ہیں۔ اور (اے پیغمبر) ان کا حال یہ ہے کہ تم ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آؤ، یہ کافر لوگ پھر بھی یہی کہیں گے کہ تم کچھ بھی نہیں، بالکل غلط کار ہو۔