اتارتا ہے فرشتوں کو روح (یعنی وحی) کے ساتھ اپنے حکم سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے کہ خبر دار کرو (لوگوں کو) کہ نہیں کوئی معبود سوائے میرے پس مجھ سے ہی ڈرا کرو
اور (یہ جانور) اٹھا لے جاتے ہیں تمھارے بوجھ ان شہروں تک جہاں تم نہیں پہنچ سکتے مگر سخت مشقت سے بیشک تمھارا رب بہت مہربان (اور) ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے
اور اس نے پیدا کیے گھوڑے اور خچرّ اور گدھے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور (تمھارے لیے ان میں) زینت ہے، اور پیدا فرمائے گا ایسی سواریوں کو جو تم نہیں جانتے
اگاتا ہے تمھارے لیے اس کے ذریعے (طرح طرح کے) کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور (انکے علاوہ) ہر قسم کے پھل۔ یقیناً ان تمام چیزوں میں (قدرت الہٰی کی) نشانی ہے اس قوم کے لیے جو غورو فکر کرتی ہے
اور اللہ تعالیٰ نے مسخر فرما دیا تمھارے لیے رات، دِن سورج اور چاند کو اور تمام ستارے بھی اس کے حکم کے پابند ہیں بیشک ان تمام چیزوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو دانشمند ہے
اور ( علاوہ ازیں ) جو پیدا فرمایا تمھارے لیے زمین میں (اسے بھی مسخر کر دیا) الگ الگ ہے ان کا رنگ و رُوپ۔ یقیناً ان میں (قدرت الٰہی کی) نشانی ہے ۔ ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہیں
اور وہی ہے جس نے پابند حکم کر دیا ہے سمندر کو تاکہ تم کھاؤ اس سے تازہ گوشت اور نکالو اس سے زیور جسے تم پہنتے ہو اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو کہ موجوں کو چیر کی جا رہی ہیں سمندر میں تاکہ (ان کے ذریعے) تم تلاش کرواللہ تعالیٰ کے فضل (رزق ) کو تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرتے رہو
اور اللہ تعالیٰ نے گاڑ دیے ہیں زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ زمین لرزتی نہ رہے تمھارے ساتھ اور نہریں جاری کر دیں اور راستے بنا دیے تاکہ تم (اپنی منزل کی) راہ پا سکو
تا کہ (اس ہرزہ سرائی کے باعث) وہ اٹھائیں اپنے (گناہوں کے) پورے بوجھ قیامت کے دن اور ان لوگوں کے بوجھ بھی اٹھائیں جنہیں وہ گمراہ کرتے رہے ہیں جہالت سے کتنا برا (اور گراں ) ہے یہ جوجھ جسے وہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں
(دعوت حق کے خلاف) مکرہ فریب کیا کرتے تھے وہ لو گ جو ان سے پہلے گزرے پس اللہ تعالیٰ نے ان کے (فریب ) کی عمارت جڑوں سے اکھیڑ کر رکھ دی پس گِر پڑی چھت ان کے اوپر سے اور آگیا ان پر عذاب جہاں سے انھیں خیال و گمان بھی نہ تھا
اس کے بعد روز قیامت اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل و رسوا کرے گا اور (ان سے) پوچھیگا کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کے بارے میں تم جھگڑا کیا کرتے تھے۔ کہیں گے وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہ بلاشبہ آج ہر قسم کی رسوائی اور بربادی کافروں کے لیے ہے
وہ کافر جن کی جانیں فرشتے قبض کرتے ہیں در آنحال کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں تب وہ سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم تو کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے (اہل علم جواب دینگے) نہیں نہیں (تم بڑے بدکار تھے) بےشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو (بُرے کام) تم کیا کرتے تھے
اور ( یونہی ) پوچھا گیا ان سے جو متقی تھے کہ وہ کیا ہے جو اتارا تمھارے رب نے؟ انھوں نے کہا (سراپا ) خیر! جنھوں نے اچھے کام کیے اس دنیا میں بھی ان کے لیے بھلائی ہے اور آخرت کا گھر بھی (ان کے لیے) بہتر ہے اور بہت ہی عمدہ ہے پرہیزگاروں کا گھر
(ان کے لیے) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے رواں ہوں گی ان کے نیچے نہریں ان کے لیے وہاں ہر وہ چیز ہو گی جس کی وہ خواہش کریں گے یوں بدلہ دیتا ہے اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو
وہ متقی جن کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ خوش ہوتے ہیں (اس وقت) فرشتے کہتے ہیں (اے نیک بختو) سلامتی ہو تم پر داخل ہو جاؤ جنت میں ان (نیک اعمال ) کے باعث جو تم کیا کرتے تھے
یہ مشرک کس کے منتظر ہیں بجز اس کے کہ آجائیں ان کے پاس (عذاب کے ) فرشتے یا آجائے آپ کے رب کا (اٹل ) حکم۔ یونہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان کے پیشرو تھے اور نہیں زیادتی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ نے بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر زیادتی کیا کرتے تھے
اور کہنے لگے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا کہ اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو ہم عبادت نہ کرتے اس کے سوا کسی اور چیز کی نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم حرام کرتے اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو ایسی ہی (بے سروپا) باتیں کیا کرتے تھے ان کے پیشرو (اے سننے والے!) کیا رسولوں کے ذمہ اسکے علاوہ بھی اور کچھ ہے کہ وہ صاف طور پر (حکم الٰہی) پہنچا دیں
اور ہم نے بھیجا ہر امت میں ایک رسول (جو انھیں یہ تعلیم دے) کہ عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور دور ہو طاغوت سے سو ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جس پر گمراہی مسلّط ہو گئی پس سیر وسیاحت کرو زمین میں اور (اپنی آنکھوں سے ) دیکھو کس قدر عبرتناک تھا انجام (رسولوں کو) جھٹلانے والوں کا
(اے حبیب) آپ خواہ کتنے ہی حریص ہوں ان کے ہدایت یافتہ ہونے پر مگر اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا جنھیں وہ (پیہم شر کشی کے باعث ) گمراہ کر دیتا ہے اور نہیں ان کے لیے کوئی مدد کرنے والا
اور بڑی شدّو مدّ سے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ (دوبارہ ) زندہ نہیں کریگا اللہ تعالیٰ جو (ایکبار) مر جاتا ہے۔ ہاں ضرور زندہ کریگا یہ اس کا وعدہ ہے اس پر لازم ہے اس کو پورا کرنا لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے
اور جنھوں نے راہ خدا میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر (طرح طرح کے) ظلم توڑے گئے تو ہم ضرور ان کو دنیا میں بہتر ٹھکانا دیں گے اور آخر ت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش! یہ جان لیتے
(پہلے رسولوں کو بھی ہم نے) روشن نشانیاں اور کتابیں دیکر بھیجا اور ( اسی طرح ) ہم نے نازل کیا آپ پر یہ ذکر تاکہ آپ کھول کر بیان کریں لوگوں کے لیے (اس ذکر کو) جو نازل کیا گیا ہے ان کی طرف تاکہ وہ غورو فکر کریں
کیا بیخوف (اور نڈر) ہو گئے وہ لو گ جنہوں نے برے مکر کیے کہ مبادا گاڑ دے اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں یا آجائے ان پر عذاب اس طرح کہ (ان کو اس کی آمد کا) شعور ہی نہ ہو
انھوں نے نہیں دیکھا ان اشیاء کی طرف جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے کہ بدلتے رہتے ہیں ان کے سائے دائیں سے (بائیں طرف) اور بائیں سے (دائیں طرف) سجدہ کرتے ہوئے اللہ کو اس حال میں کہ وہ اظہار عجز کررہے ہیں
اور مقرر کرتے ہیں انکے لیے جنکو یہ جانتے ہی نہیں حصّہ اس مال سے جو ہم نے انکو دیا ہے اللہ کی قسم ! تم سے ضرور باز پرس ہو گی اسکے متعلق جو تم بہتان باندھا کرتے ہو
چھپتا پھرتا ہے لوگوں (کی نظروں) سے اس بری خبر کے باعث جو دی گئی ہے اسے (اب یہ سوچتا ہے کہ) کیا وہ اس بچی کو اپنے پاس رکھے ذلّت کے ساتھ یا گاڑ دے اسے مٹی میں آہ! کتنا برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کرتے ہیں
اور اگر (فوراً) پکڑ لیا کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو انکے ظلم کے باعث تو نہ چھوڑتا زمین پرکسی جاندار کو لیکن وہ مہلت دیتا ہے انہیں ایک مقررّہ میعاد تک پس جب آجاتی ہے انکی (مقرّرہ) میعاد تو نہ وہ ایک لمحہ پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے ہو سکتے ہیں
اور تجویز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے ( بیٹیاں) جنھیں وہ (اپنے لیے) نا پسند کرتے ہیں اور بیان کرتی ہیں انکی زبانیں جھوٹ (جب وہ کہتی ہیں کہ) فقط انہیں کے لیے بھلائی ہے یقیناً انہیں کے لیے آتش ( جہنم ) ہے اور انھیں کو (دوزخ میں) پہلے بھیجا جائیگا
بخدا ! ہم نے بھیجا ہے (رسولوں کو ) مختلف قوموں کی طرف آپ سے پہلے پس آراستہ کر دیا ان کے شیطان نے انکے (بُرے) اعمال کو پس وہی ان کا دوست ہے آج بھی اور ان کے لیے عذاب الیم ہے
اور نہیں اتاری ہم نے آپ پریہ کتاب مگر اس لیے کہ آپ صاف صاف بیان کر دیں انکے لیے وہ بات جسمیں وہ اختلاف کرتے ہیں اور (یہ کتاب) سراپا ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لیے جو ایماندار ہے
اور اللہ تعالیٰ نے اتارا آسمان سے پانی پھر زندہ کیا اس سے زمین کو اس کے بنجر بن جانے کے بعدبیشک اس میں ( کھلی) نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو (حق کی آواز) سنتے ہیں
اور بیشک تمھارے لیے مویشیوں میں ایک عبرت ہے دیکھو! ہم تمھیں پلاتے ہیں جو ان کے شکموں میں گوبر اور خون ہے ان کے درمیان سے نکال کر خالص دودھ جو بہت خوش ذائقہ ہے پینے والوں کے لیے
اور (ہم پلاتے ہیں تمھیں) کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم بناتے ہو اس سے میٹھا رس اور پاک رزق بلاشبہ اس میں بھی (ہماری قدرت کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھدار ہیں
پھر رس چوسا کر ہر قسم کے پھلوں سے پس چلتی رہا کر اپنے رب کی آسان کی ہوئی راہوں پر ( یُوں) نکلتا ہے ان کے شکموں سے ایک شربت مختلف رنگوں والا اس میں شفا ہے لوگوں کے لیے بیشک ا س میں (قدرت الہٰی کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں
اور اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تمھیں پھر جان قبض کریگا تمھاری اور تم میں سے بعض ایسے ہیں جنھیں لوٹا دیا جاتا ہے ناکارہ عمر کی طرف تاکہ وہ کچھ نہ جانے جان لینے کے بعد بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ، ہر چیز پر قادر ہے
اور اللہ تعالیٰ نے برتری بخشی ہے تم میں سے بعض کو بعض پر دولت کے لحاظ سے پس (اب بتاؤ) کیا وہ لوگ جنھیں برتری بخشی گئی ہے وہ لوٹانے والے ہیں اپنی دولت کو ان لوگوں پر جو ان کے مملوک ہیں تاکہ وہ سب اسممیں برابر ہو جائیں؟ (ہر گز نہیں) تو کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں
اور اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائیں تمھارے لیے تمھاری جنس سے عورتیں اور پیدا فرمائے تمھارے لیے تمھاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے اور رزق عطا فرمایا تمھیں پاکیزہ تو کیا (یہ لوگ) باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کی ناشکری کرتے ہیں
بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال (وہ یہ کہ) ایک بندہ ہے جو مملوک ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور (اسکے مقابلہ میں) ایک وہ بندہ ہے جسے ہم نے رزق دیا اپنی جناب پاک سے رزق حسن پس وہ خرچ کرتا رہتا ہے اس سے پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر (اب تم ہی بتاؤ) کیا یہ برابر ہیں الحمد للہ!(حقیقت حال واضح ہو گئی) بلکہ انمیں سے اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے
اور بیان فرمائی اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال دو آدمی ہیں ان میں سے ایک تو گونگا ہے کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ بوجھ ہے اپنے آقا پر جہاں کہیں وہ اس (نکمّے) کو بھیجتا ہے تو وہ واپس نہیں آتا کسی بھلائی کے ساتھ ۔ کیا برابر ہو سکتا ہے یہ (نکمّا) اور وہ شخص جو حکم دیتا ہے عدل کے ساتھ اور وہ راہ راست پر گامزن ہے
اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی مخفی باتوں کو اور نہیں قیامت برپا ہونے کے معاملہ مگر جیسے آنکھ تیزی سے جھپکتی ہے یا اس بھی جلد بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے
اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں نکالا ہے تمھاری ماؤں کے شکموں سے اس حال میں کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم (ان بیش بہا نعمتوں پر ) شکر اد اکرو
کیا انھوں نے کبھی نہیں دیکھا پرندوں کی طرف کہ وہ مطیع اور فرمانبردار بن کر اڑ رہے ہیں فضاء آسمانی میں کوئی چیز انھیں تھامے ہوئے نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے بیشک اس میں (کھلی ) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں
اور اللہ تعالیٰ نے ہی (اپنے فضل و کرم سے) بنا دیا ہے تمھارے لیے تمھارے گھروں کو آرام و سکون کی جگہ اور بنائے ہیں تمھارے لیے جانوروں کے چمڑوں سے گھر (یعنی خیمے) جنھیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو سفر کے دن اور اقامت کے دن اور ( اسی نے بنائے ) ہیں بھیڑوں کی صوف اور اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بالوں سے مختلف گھریلو سامان اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقررّہ تک
اور اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں تمھارے (آرام) کے لیے ان چیزوں کے سائے جن کو اس نے پیدا فرمایا اور اسی نے بنائی ہے تمھارے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں اور اسی نے بنائے ہیں تمھارے لیے ایسے لباس جو بچاتے ہیں تمھیں گرمی سے اور (کچھ ایسے آہنی) لباس جو بچاتے ہیں تمھیں لڑائی کے وقت اسی طرح وہ پورا فرماتا ہے اپنا احسان تم پر تاکہ تم سر اطاعت خم کرو
اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے (ٹھیرائے ہوئے) شریکوں کوتو بول اٹھینگے اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے بنائے ہوئے شریک جنھیں ہم پوجا کرتے تھے تجھے چھوڑ کر تو وہ شریک انھیں جواب دینگے یقیناً تم جھوٹ بول رہے ہو
جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) روکا اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہم نے بڑھا دیا اور عذاب ان کے پہلے عذاب پر اس وجہ سے کہ وہ فتنہ و فساد برپا کیا کرتے تھے
اور وہ دن (بڑا ہولناک ہو گا) جب ہم اٹھائینگے ہر امت سے ایک گواہ ان پر انھیں میں سے اور ہم لے آئینگے آپ کو بطور گواہ ان سب پر اور ہم نے اتاری ہے آپ پر یہ کتاب اس میں تفصیلی بیان ہے ہر چیز کا اور یہ سراپا ہدایت و رحمت ہے اور یہ مثردہ ہے مسلمانوں کے لیے
بیشک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ ہر معاملہ میں انصاف کرو اور (ہر ایک کے ساتھ) بھلائی کرو اور اچھا سلوک کرو رشتہ داروں کے سا تھ اور منع فرماتا ہے بےحیائی سے، بُرے کاموں سے اور سر کشی سے اللہ تعالیٰ نصیحت کرتا ہے تمھیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو
اور پورا کرو اللہ تعالیٰ کے عہد کو جب تم نے اس سے عہد کر لیا ہے اور نہ توڑو (اپنی) قسموں کو انھیں پختہ کرنے کے بعد حالانکہ تم نے کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو
اور نہ ہو جاؤ اس عورت کی مانندجس نے توڑ ڈالا اپنے سوت کو مضبوط کاتنے کے بعد (اور اسے) پارہ پارہ کر ڈالا تم بناتے ہو اپنی قسموں کو ایک دوسرے کے فریب دینے کا ذریعہ تاکہ اس طرح ہو جائے ایک گروہ زیادہ فائدہ اٹھانے والا دوسرے گروہ سے صرف آزماتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ ان قسموں سے اور واضح فرما دیگا تمھارے لیے قیامت کے روز ان باتوں کو جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے
اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو بنا دیتا تمھیں ایک اُمّت لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور ضرور تم سے باز پرس کی جائیگی ان اعمال سے جو تم کیا کرتے تھے
اور نہ بناؤ اپنی قسموں کو آپس میں فریب دینے کا ذریعہ ورنہ (جاؤہ حق سے ) پِھسل جائے گا (لوگوں کا) قدم (اس پر) جم جانے کے بعد اور تمھیں چکھنا پڑے گا (اس کا) بُرانتیجہ کہ تم نے (اپنی عہد شکنی اور فریب کاری) کے باعث لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روک دیا اور تمھارے لیے بڑا دردناک عذاب ہو گا
جو (مال و زر) تمھارے پاس ہے وہ ختم ہو جائیگا اور جو (رحمت کے خزانے) اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ باقی رہینگے اور ہم ضرور عطا کریں گے انھیں جنھوں نے (ہر مصیبت میں ) صبر کیا اور ان کا اجرانکے اچھے (اور مفید) کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے
جو بھی نیک کام کرے مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے عطا کرینگے ایک پاکیزہ زندگی اور ہم ضرور دیں گے انھیں ان کا اجر انکے اچھے (اور مفید) کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے
اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ نازل کرتاہے تو یہ لوگ کہتے ہیں تم صرف افترا پرداز ہوبلکہ ان میں سے اکثر (آیت بدلنے کی حکمت کو) نہیں جانتے
فرمائیے نازل کیا ہے اسے روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تاکہ ثابت قدم رکھے انھیں جو ایمان لائے ہیں اور یہ ہدایت اور خوش خبری ہے مسلمانوں کے لیے
اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ انھیں تو یہ قرآن ایک انسان سکھاتا ہے حالانکہ اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ تعلیم قرآن کی نسبت کرتے ہیں عجمی ہے۔ اور یہ قرآن فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے
جس نے کفر کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے کے بعد بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا اور اس کا دل مطمئن ہے ایمان کے ساتھ (تو اس سے مؤاخذہ نہ ہو گا) لیکن وہ (بد نصیب) کھل جائے کفر کے ساتھ (جس کا سینہ ) تو ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے
پھر بیشک آپ کے پروردگار کا معاملہ ان کے ساتھ جنہوں نے ہجرت کی بڑی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد پھر جہاد بھی کیا اور (مصائب میں) صبر سے کام لیا بیشک آپکا رب ان آزمائشوں کے بعد (انکے لیے) بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانیوالا ہے
اس دن کو یاد کرو جب آئے گا ہرنفس کہ جھگڑا کر رہا ہوگا (صرف ) اپنے معتلق اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کیا ہوگا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
اور بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال وہ یہ کہ ایک بستی میں جو امن (اور ) چین سے (آباد) تھی آتا تھا اس کے پاس اس کا رزق بکثرت ہر طرف سے پس اس (کے باشندوں ) نے نا شکری کی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی پس چکھایا انہیں اللہ تعالیٰ نے (یہ عذاب کہ پہنا دیا انہیں) بھوک اور خوف کا لباس ان کارستانیوں کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے
اس نے تم پر حرام کیا ہے صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر بلند کیا گیا ہو غیر اللہ کا نام ذبح کے وقت پس جو مجبور ہو جائے (انکے کھانے پر بشرطیکہ) وہ لذّت کا جویا نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا ہو (تو کوئی حرج نہیں) بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے
اور نہ بولو جھوٹ جن کے بارے میں تمھاری زبانیں بیان کرتی ہیں (یہ کہتے ہوئے) کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس طرح تم افتراء باندھو گے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹے بہتان تراشتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے
اور یہودیوں پر ہم نے حرام کر دیں وہ چیزیں جن کا ذکر ہم آپ سے پہلے کر چکے ہیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے
پھر بیشک آپکا رب ان کے لیے جنھوں نے غلطی کی (لیکن) نادانی سے پھر انھوں نے توبہ کر لی اس کے بعد اور اپنے آپ کو سنوار لیا بیشک آپکا پروردگار اس کے بعد (انکے گناہوں کو) بہت بخشنے والا (اور ان پر) نہایت رحم کرنے والا ہے
صرف ان لوگوں پر سنیچر کی پابندی تھی جنھوں نے اختلا ف کیا تھا اس میں اور بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ فرما ئیگا ان کے درمیان روز قیامت ان امور کے متعلق جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے
(اے محبوب!) بلائیے (لوگوں کو) اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت سے اور عمدہ نصیحت سے اور ان سے بحث (و مناظرہ) اس انداز سے کیجیے جوبڑا پسندیدہ (اور شائستہ ) ہو۔ بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے اسے جو بھٹک گیا اسکے راستے سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو
اور اگر تم (انھیں) سزا دینا چاہو تو انھیں سزا دو۔ لیکن اس قدر جتنی تمھیں تکلیف پہنچائی گئی ہے اور اگر تم (ان کی ستم رانیوں پر) صبر کرو تو یہ صبر ہی بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لیے
اور آپ صبر فرمائیے اور نہیں ہے آپ کا صبر مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور رنجیدہ نہ ہوا کریں ان (کی ہٹ دھرمی) پر اور نہ غمزدہ ہو ا کریں ان کی فریب کاریوں سے